پیر، 17 مارچ، 2025

چلتے چلتے آیت سجدہ کی تلاوت سے کتنے سجدہ واجب ہوں گے؟ سوال نمبر ۵٠٤

 سوال 

اسلام عليكم ورحمۃ وبرکاتہ میں امید کرتا ہوں بخیریت ہونگے 

اگر کوئی شخص مسجد یا اور کوئی جگہ میں قرآن پڑھیں چلتے چلتے اور سجدہ کی آیت تلاوت کرے تو کتنا سجدہ کرے؟ جواب حوالہ کے ساتھ مطلوب ہے

سائل: مولوی امتیاز انڈمان 


الجواب وباللہ التوفیق 

باسمہ سبحانہ وتعالی 


سجدہ تلاوت میں اصل اعتبار مجلس کا ہے جس جگہ آیت سجدہ تلاوت کی ہے اسی مجلس میں دوبارہ اسی آیتِ سجدہ کو پڑھنے کی صورت میں دوبارہ سجدہ کرنا لازم نہیں ہے البتہ اگر مجلس بدل جائے اور دوسری مرتبہ آیتِ سجدہ پڑھیں یا اس آیت کے علاوہ دوسری آیت سجدہ کی تلاوت کریں تو سجدہ تلاوت دوبارہ کرنا ضروری ہے۔


فقہاء نے تبدل مجلس کی دو صورتیں بیان کی ہے۔

(۱) حقیقی اعتبار سے مجلس بدل جائے، جیسے جس جگہ پر تلاوت کررہا ہے اس جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلا جائے۔

(۲) حکمی اعتبار سے مجلس بدل جائے جیسے اسی جگہ پر بیٹھے بیٹھے کھانا شروع کردینا، یا کوئی اور کام شروع کردینا جو تلاوت کے حکم میں نہ ہو تو اس سے مجلس بدل جائے گی۔


البتہ فقہاء کرام نے عمل قلیل کو ایک ہی مجلس شمار کیا ہے 

جیسے آیت سجدہ کی تلاوت کرنے کے بعد کھڑا ہوجائے یا ایک دو قدم چل پڑے یا ایک دو لقمے کھالے یا ایک گھونٹ پانی پی لے تو ان سب سے مجلس تبدیل نہیں ہوگی


صورت مسئولہ میں اگر وہ جس جگہ تلاوت کررہاہے اسی جگہ پر جیسے کہ مسجد میں تلاوت کررہا ہے تو اس کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک یا روم کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک چہل قدمی کرتے ہوئے آیت سجدہ کا تکرار کرے تو اس پر ایک ہی سجدہ واجب ہوگا اس لئے کہ اتحاد مجلس ہے اور وہ مسجد یا روم میں چہل قدمی کرتے ہوئے اندر اور باہر آتا جاتا رہے اور آیت سجدہ کی تلاوت کا تکرار کریں تو اس پر جتنی بار آیت سجدہ تلاوت کرے گا اتنی بار سجدہ واجب ہوگا کیوں کہ مجلس بدل گئی۔


فتاویٰ شامی میں ہے 

قال الحصکفی: (ولو کررہا فی مجلسین تکررت وفی مجلس) واحد (لا) تتکرر بل کفتہ واحدة۔ وفعلہا بعد الأولی أولی قنیة۔ قال ابن عابدین: بخلاف ما إذا طال جلوسہ أو قرائتہ أو سبح أو ہلل أو أکل لقمة أو شرب شربة أو نام قاعدا أو کان جالسا فقام أو مشی خطوتین أو ثلاثا علی الخلاف أو کان قائما فقعد أو نازلا فرکب فی مکانہ فلا تتکرر حلیة ملخصا (قولہ بل کفتہ واحدة) ولا یندب تکرارہا۔ ( رد المحتار: ۵۹۰/۲، زکریا، دیوبند)


بدائع الصنائع میں ہے

ثم تبدل المجلس قد يكون حقيقة وقد يكون حكما بأن تلا آية السجدة ثم أكل أو نام مضطجعا، أو أرضعت صبيا، أو أخذ في بيع أو شراء أو نكاح أو عمل يعرف أنه قطع لما كان قبل ذلك ثم أعادها فعليه سجدة أخرى؛ لأن المجلس يتبدل بهذه الأعمال.

ألا ترى أن القوم يجلسون لدرس العلم فيكون مجلسهم مجلس الدرس، ثم يشتغلون بالنكاح فيصير مجلسهم مجلس النكاح، ثم بالبيع فيصير مجلسهم مجلس البيع، ثم بالأكل فيصير مجلسهم مجلس الأكل، ثم بالقتال فيصير مجلسهم مجلس القتال فصار تبدل المجلس بهذه الأعمال كتبدله بالذهاب والرجوع لما مر.

ولو نام قاعدا أو أكل لقمة أو شرب شربة أو تكلم بكلمة أو عمل عملا يسيرا ثم أعادها فليس عليه أخرى؛ لأن بهذا القدر لا يتبدل المجلس والقياس فيهما سواء أنه لا يلزمه أخرى لاتحاد المكان حقيقة إلا أنا استحسنا إذا طال العمل اعتبارا بالمخيرة إذا عملت عملا كثيرا خرج الأمر عن يدها وكان قطعا للمجلس بخلاف ما إذا أكل لقمة أو شرب شربة.

ولو قرأ آية السجدة فأطال القراءة بعدها أو أطال الجلوس ثم أعادها ليس عليه سجدة أخرى لأن مجلسه لم يتبدل بقراءة القرآن وطول الجلوس، وكذا لو اشتغل بالتسبيح أو بالتهليل ثم أعادها لا يلزمه أخرى. (كتاب الصلاة,فصل سجدة التلاوة ۱/۱۸۳ مطبوعہ دار الكتب العلمية) 


فتاویٰ عالمگیری میں ہے 

والمجلس واحد وإن طال أو أكل لقمة أو شرب شربة أو قام أو مشى خطوة أو خطوتين أو انتقل من زاوية البيت أو المسجد إلى زاوية إلا إذا كانت الدار كبيرة كدار السلطان وإن انتقل في المسجد الجامع من زاوية إلى زاوية لا يتكرر الوجوب وإن انتقل فيه من دار إلى دار ففي كل موضع يصح الاقتداء يجعل كمكان واحد وسير السفينة لا يقطع المجلس بخلاف سير الدابة إذا لم يكن راكبها في الصلاة، كذا في فتاوى قاضي خان. (فتاویٰ عالمگیری كتاب الصلاة ۱/١٣٤ ط'دار الفكر)


واللہ أعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب 

العارض مفتی آصف بن محمد گودھروی

کوئی تبصرے نہیں: