سوال
حضرات مفتیان کرام جیسا کہ ایک مسئلہ پر منجھارا ھو رھا ہے وہ یہ کہ سعودی عرب میں یوم عرفہ کا دن پہلے ہوتا ہے اور باقی کچھ ممالک نویں ذوالحجہ ایک دن بعد ہوتا ہے تو نویں ذوالحجہ کے روزے کی جو فضیلت بتلائی جاتی تو صائم کو تھوڑی پریشانی ہوتی ہے اس مسئلہ کو سمجہنے پر براء کرم وضاحت فرمائیے
سائل: سیف اللہ پاکستانی
الجواب وباللہ التوفیق
باسمہ سبحانہ وتعالی
شریعت مطہرہ نے روزہ رکھنے نہ رکھنے اور عید کرنے نہ کرنے کا دارومدار چاند دیکھنے پر رکھا ہے، رؤیت کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات کی تلقین فرمائی ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھا جائے اور چاند دیکھ کر ہی عید کی جائے، آپ کا ارشاد گرامی ہے، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ (چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزوں کا اختتام کرو اور اگر تم پر چاند مخفی ہو جائے تو پھر تم شعبان کے ۳۰ دن پورے کرلو۔ صحیح بخاری ، کتاب الصوم)
لہذا صورت مسئولہ میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ سعودی عرب کی رؤیت دیگر ممالک کے حق میں معتبرہے یا نہیں؟ تو اس بارے میں احناف کا راجح قول یہی ہے کہ بلادِ بعیدہ جن کےطلوع وغروب میں کافی فرق پایاجاتا ہے ان کی رؤیت ایک دوسرے کے حق میں معتبر نہیں ہے، اور سعودی عرب اور دیگر ممالک کے مطلع میں کافی فرق ہونا بار بار کے مشاہدہ سے ثابت ہے، جس کی وجہ سے عید روزہ اور قربانی میں ہر ملک کی اپنی اپنی رؤیت کا اعتبارہوگا اور عرفہ کے روزہ کے بارے میں بھی ہر ملک کی اپنی رؤیت معتبر ہوگی لہذا جس دن دیگر ممالک کے حساب سے ذی الحجہ کی نویں تاریخ ہوگی اسی دن روزہ رکھنے سے یومِ عرفہ کے روزے کی فضیلت حاصل ہوگی اگرچہ اس دن مکہ مکرمہ میں عید کا دن ہو۔
اگر سعودی عرب کی رؤیت سارے ممالک میں معتبر مان لیں تو بعض ممالک ایسے بھی ہیں جب سعودیہ میں دن ہوتا ہے تو وہاں رات ہوتی ہے، اگر ان ممالک کے لوگ حجاج کرام کے وقوفِ عرفات کے وقت روزہ رکھیں تو کیا وہ لوگ بھی جن کے یہاں رات ہے وہ رات کا روزہ رکھیں گے؟ اسی طرح ہندوستان پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً دھائی گھنٹے کا فرق ہے تو کیا وہ لوگ جب افتاری کریں گے تو ہندوستان پاکستان والے بھی کریں گے؟ اسی طرح کچھ ایسے ممالک بھی ہونگے جہاں سعودیہ سے بھی پہلے چاند نظر آجاتا ہے تو کیا وہ لوگ ۱۰ ذوالحجہ یعنی عید کے دن عرفہ کا روزہ رکھیں گے؟ ہرگز نہیں۔
اسی طرح اگر چاند سب کا ایک ہو سعودی کے ساتھ تو ہر چیز میں یکسانیت ہونی چاہئے، جیسے کہ سورج کے اوقات میں بھی یکسانیت ہونا چاہیے، مثلاً افطار و سحری کے اوقات بھی وہی ہونا چاہئے جو مکہ مدینہ کے اوقات ہوں، نمازوں کے اوقات بھی وہی ہونا چاہئے جو مکہ مدینہ کی نمازوں کے اوقات ہوں، اگر یہ ممکن نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ چاند کا مختلف ہونا نمازوں اور افطار و سحر کے معاملے میں تو معتبر ہے لیکن رمضان کے روزوں اور یومِ عرفہ کے روزے میں معتبر نہیں؟ یہ سوچ تو درست نہیں ہے، اس لئے کہ ہماری سوچ کے ساتھ اوقات کا تعلق نہیں ہے بلکہ صاحب شریعت نے جو اصول بیان کیا ہے اسی اعتبار سے شریعت کا حکم جاری ہوتا ہے،
خلاصہ
خلاصہ کلام یہ ہوکہ دنیا کے دیگرممالک کے مسلمان سعودی عرب کی رؤیت کے پابند نہیں ہے سارے ممالک اپنے اپنے ملک کی رؤیت کے پابند ہوں گے، ترمذی شریف کی ایک روایت سے بھی اسی طرف رہنمائی ہوتی ہے روایت میں ہے کہ حضرت کریب فرماتے ہیں کہ حضرت امِ فضل بنتِ حارث نے مجھ کو حضرت امیر معاویہ کے پاس شام بھیجا حضرت کریب فرماتے ہیں میں شام گیا اور ان کا کام پورا کیا اسی اثنا میں رمضان آگیا پس ہم نے جمعہ کی شب چاند دیکھا پھر میں رمضان کے آخر میں مدینہ واپس آیا تو حضرت ابن عباس نے مجھ سے چاند کا ذکر کیا اور پوچھا کہ تم نے کب چاند دیکھا تھا؟ میں نے کہا جمعہ کی شب کو حضرت ابن عباس نے فرمایا تم نے خود دیکھا تھا؟ میں نے کہا لوگوں نے دیکھا اور روزہ رکھا امیر معاویہ نے بھی روزہ رکھا حضرت ابن عباس نے فرمایا ہم نے تو ہفتے کی رات چاند دیکھا تھا لہذ اہم تیس روزے رکھیں گے یا یہ کہ عیدالفطر کا چاند نظر آجائے۔ حضرت کریب فرماتے ہیں میں نے کہا کیا آپ کے لئے امیر معاویہ کاچاند دیکھنا اور روزہ رکھنا کافی نہیں؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا نہیں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح حکم دیا ہے، لہذا اس سے بھی معلوم ہوا کہ اپنے ملک کی رؤیت کا اعتبار ہوگا یعنی اپنے ملک میں جب چاند نظر آئے گا تو اسی چاند کے حساب سے عرفہ کا روزہ رکھیں گے نہ کہ سعودیہ میں جب عرفہ ہو تب روزہ رکھیں گے۔
سنن ترمذی میں ہے
حدثنا محمد بن أبي حرملة قال أخبرني كريب أن أم الفضل بنت الحارث بعثته إلى معاوية بالشام قال فقدمت الشام فقضيت حاجتها واستهل علي هلال رمضان وأنا بالشام فرأينا الهلال ليلة الجمعة ثم قدمت المدينة في آخر الشهر فسألني ابن عباس ثم ذكر الهلال فقال متى رأيتم الهلال فقلت رأيناه ليلة الجمعة فقال أأنت رأيته ليلة الجمعة؟ فقلت: رآه الناس وصاموا وصام معاوية قال لكن رأيناه ليلة السبت، فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين يوما أو نراه فقلت ألا تكتفي برؤية معاوية وصيامه قال لا هكذا أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حديث ابن عباس حديث حسن صحيح غريب والعمل على هذا الحديث عند أهل العلم أن لكل أهل بلد رؤيتهم۔ (سنن الترمذي ۲٦٧ باب ما جاء لکل اھل بلد رؤیتھم مکتبہ رحمانیہ)
تبيين الحقائق میں ہے
وأكثر المشايخ على أنه لا يعتبر حتى إذا صام أهل بلدة ثلاثين يوماً وأهل بلدة أخرى تسعة وعشرين يوماً يجب عليهم قضاء يوم، والأشبه أن يعتبر؛ لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم، وانفصال الهلال عن شعاع الشمس يختلف باختلاف الأقطار، كما أن دخول الوقت وخروجه يختلف باختلاف الأقطار، حتى إذا زالت الشمس في المشرق لا يلزم منه أن تزول في المغرب۔ (تبيين الحقائق وحاشية الشلبي قدیم ۱/۳۲۱)
بدائع الصنائع میں ہے
هذا إذا كانت المسافة بين البلدين قريبة لا تختلف فيها المطالع، فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر۔ (بدائع الصنائع قدیم ۲/۸۳)
فتاوی شامی میں ہے
(واختلاف المطالع) ورؤيته نهارا قبل الزوال وبعده (غير معتبر على) ظاهر (المذهب) وعليه أكثر المشايخ وعليه الفتوى بحر عن الخلاصة(فيلزم أهل المشرق برؤية أهل المغرب) إذا ثبت عندهم رؤية أولئك بطريق موجب كما مر وقال الزيلعي الأشبه أنه يعتبر لكن قال الكمال الأخذ بظاهر الرواية أحوط.
(قوله واختلاف المطالع) جمع مطلع بكسر اللام موضع الطلوع بحر عن ضياء الحلوم (قوله ورؤيته نهارا إلخ) مرفوع عطفا على اختلاف ومعنى عدم اعتبارها أنه لا يثبت بها حكم من وجوب صوم أو فطر فلذا قال في الخانية فلا يصام له ولا يفطر وأعاده وإن علم مما قبله ليفيد أن قوله لليلة الآتية لم يثبت بهذه الرؤية بل ثبت ضرورة إكمال العدة كما قررناه فافهم (قوله على ظاهر المذهب) اعلم أن نفس اختلاف المطالع لا نزاع فيه … وإنما الخلاف في اعتبار اختلاف المطالع بمعنى أنه هل يجب على كل قوم اعتبار مطلعهم، ولا يلزم أحد العمل بمطلع غيره أم لا يعتبر اختلافها بل يجب العمل بالأسبق رؤية حتى لو رئي في المشرق ليلة الجمعة، وفي المغرب ليلة السبت وجب على أهل المغرب العمل بما رآه أهل المشرق فقيل بالأول واعتمده الزيلعي وصاحب الفيض وهو الصحيح عند الشافعية لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم كما في أوقات الصلاة وأيده في الدرر بما مر من عدم وجوب العشاء والوتر على فاقد وقتهما وظاهر الرواية الثاني وهو المعتمد عندنا وعند المالكية والحنابلة لتعلق الخطاب عملا بمطلق الرؤية في حديث صوموا لرؤيته بخلاف أوقات الصلوات وتمام تقريره في رسالتنا المذكورة۔ (رد المحتار مطلب في اختلاف المطالع ٣/٣٦٣ مکتبہ دار عالم الکتب)
فتاوی تاتار خانیہ میں ہے:
وفی الظهيرة وعن ابن عباس انه یعتبر فی حق کل بلدۃرؤیة اهلها۔وفی القدوری اذا کان بین البلدتین تفاوت لایختلف المطالع لزم حکم اهل احدی البلدتین البلدۃالاخریٰ، فاما اذا کان تفاوت یختلف المطالع لم یلزم حکم احدی البلدتین البللدۃالاخری۔ (کتاب الصوم ٣/٣۵٦ ط مکتبه زکریا دیوبند)
واللہ أعلم بالثواب والیہ المرجع والمآب
العارض مفتی آصف بن محمد گودھروی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں