جمعرات، 19 مئی، 2022

مسجد میں غیر مسلموں کی رقم استعمال کرنا کیسا ہے؟ سوال نمبر ٣١٨

 سوال

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

مفتی صاحب ۔ مسٔلہ یہ ہے کہ اگر غیر مسلم  مسجد کے کام کیلئے روپیہ اگر دینا چاہیے تو  تو کیا سولر پاور سسٹم کے لئے استعمال کرسکتے ہیں؟

سائل: عنایت اللہ ابن عبد اللہ


الجواب وباللہ التوفیق

باسمہ سبحانہ وتعالی


غیر مسلم اگر نیک کام سمجھ کر مسجد کو رقم دے اور اس سے رقم لینے میں کسی قسم کا اندیشہ بھی نہ ہو تو اس کا پیسہ مسجد کے لیے استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی، اور مسجد کے کسی بھی کام میں اس کی رقم لگانے کی اجازت ہوگی، لہذا مساجد کے نظام میں اگر غیر مسلم کی امداد کی وجہ سے کوئی خلل اندازی نہیں ہوتی ہے اور آئندہ ان کی طرف سے کسی قسم کی دخل اندازی کا اندیشہ نہیں ہے، توایسی صورت میں ان کی امداد لینے کی گنجائش ہے، ورنہ حالات کے تناظر میں مستقبل میں کوئی پریشانی کا امکان ہو تو امداد لینے سے احتیاط ضروری ہے۔


مسؤلہ صورت میں غیر مسلم  مسجد کے کام کیلئے تقرب کی نیت سے روپیہ دینا چاہیے تو اس کو سولر پاور سسٹم کے لئے استعمال کرسکتے ہیں جائز ہے لیکن جہاں تک ہوسکے ان کے پیسے قبول نہ کئے جائے تو اچھا ہے تاکہ بعد میں کسی قسم کے مسائل کھڑے نہ ہو 


البحرالرائق میں ہے۔

فصح وقف الذمي بشرط کونہ قربۃ عندنا وعندہم، وقولہ: بخلاف ما لو وقف علی مسجد بیت المقدس، فإنہ صحیح؛ لأنہ قربۃ عندنا وعندہم۔ (البحرالرائق، کتاب الوقف، زکریا دیوبند ۵/ ۳۱۶، کوئٹہ ۵/ ۱۸۹-۱۹۰)


فتاوی ہندیہ میں ہے۔

ولو أوصی بثلث مالہ بأن یحج عنہ قوم من المسلمین أو یبنی بہ مسجدا للمسلمین إن کان ذلک لقوم بأعیانہم صحت الوصیۃ، وتعتبر تملیکا لہم۔ (ہندیۃ، کتاب الوصایا، الباب الثامن: في وصیۃ الذمي والحربي، زکریا قدیم ۶/ ۱۳۲، جدید ۶/ ۱۵۲)۔ (فتاویٰ قاسمیہ ٢١/٧٠٨)۔ واللہ اعلم بالصواب


العارض مفتی آصف گودھروی

خادم مدرسہ ابن عباس گودھرا

کوئی تبصرے نہیں: