سوال
روزے کی کتنی اقسام ہیں؟ کون کونسی مدلل وضاحت فرمائیں؟
الجواب وباللہ التوفیق
باسمہ سبحانہ وتعالی
روزے کی سات اقسام ہیں ۔
( ۱ ) فرض روزہ: اس کی دوقسمیں ہے۔
فرض معین کے روزے اور یہ صرف رمضان کے ادا روزے ہیں، فرض غیر معین یہ صرف رمضان کے قضاء روزے ہیں، یعنی کسی مجبوری کی وجہ سے رمضان کا روزہ نہیں رکھا تو رمضان کے پورا ہونے کے بعد اس روزے کی قضاء لازم ہے۔
( ۲ ) واجب: نذرمعین کے روزے یعنی کسی خاص دن یا خاص تاریخوں کے روزہ رکھنے کی منت ماننا ۔ نذرغیر معین کے روزے یعنی دن یا تاریخ کی تعیین کئے بغیر روزہ رکھنے کی منت ماننا ۔ اور کفاروں کے روزے ۔
( ۳ ) سنت: ان روزوں میں سنت مؤکدہ تو کوئی روزہ نہیں ہے لیکن جن دنوں کے روزے حضور اکرم سے رکھنے یاان کی ترغیب ثابت ہے انہیں سنت کہتے ہیں۔
وہ روزے یہ ہے۔
عاشورہ کے دو روزے۔
محرم کی دسویں تاریخ کو روزہ رکھنا مستحب ہے، رمضان کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں کے روزوں میں محرم کی دسویں تاریخ کے روزے کا ثواب سب سے زیادہ ہے، اور اس ایک روزے کی وجہ سے گزرے ہوئے ایک سال کے گناہِ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں، اس کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ رکھنا بھی مستحب ہے، صرف دسویں محرم کا روزہ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے، لہذا ماہِ محرم کی دسویں تاریخ یعنی عاشوراء کے روزہ کا سنت ہونا حضورﷺ کے عمل اور قول سے ثابت ہے، اور تشبہ سے بچنے کے لیے نویں تاریخ کے روزے کا قصد بھی ثابت ہے۔
ایام بیض یعنی ہر مہینے کی تیرہویں، چودہویں ، پندرہویں تاریخوں کے روزے۔
ایامِ بیض (قمری مہینہ کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ) کے روزے مستحب ہیں، ان کا رکھنا فضیلت کا باعث ہے، اور نہ رکھنے میں گناہ نہیں ہے، اگر کسی شخص کا مستقل یہ روزے رکھنے کا معمول ہے تو یہ انتہائی سعادت کی بات ہے۔
پیر اور جمعرات کا روزہ۔
پیر اور جمعرات کا روزہ سنت سے ثابت ہے، اور حکم کے اعتبار سے مستحب ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیر اور جمعرات کے روزے رکھتے تھے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن انسانوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، میں پسند کرتا ہوں کہ روزہ کی حالت میں میرے اعمال پیش کیے جائیں۔
ذی الحجہ کے ایک سے نو تک کے روزے۔
احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالحجہ کے ابتدائی ایام میں ہردن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر اجر رکھتاہے، اور بطورِ خاص یومِ عرفہ (٩ذوالحجہ) کے روزے کی یہ فضیلت بیان کی گئی ہے کہ اس دن کا روزہ ایک سال قبل اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ ہے، ذوالحجہ کے شروع کے نو دن روزے رکھنے کی فضیلت ہے، بہرحال ذو الحجہ کے ابتدائی نو دنوں میں سے طاقت اور استطاعت کے مطابق جتنے دن روزے رکھنا چاہیں رکھ سکتے ہیں، مکمل نو روزے رکھنا ضروری نہیں ہے، مسلسل نو روزے بھی رکھ سکتے ہیں اور اس سے کم بھی رکھنا دررست ہے، البتہ نو ذو الحجہ کے روزے کی فضیلت بہت زیادہ ہے، اس لیے اس کا اہتمام کرلینا چاہیے ۔
( ٤ ) مستحب: وہ ہے کہ جس کو آنحضرت نے یا آپ کے صحابہ نے کیا ہو یا اس کو اچھا خیال کیا ہو یا تابعین نے اس کو اچھا سمجھا ہو، لیکن اس کو ہمیشہ یااکثر نہ کیاہو، بلکہ کبھی کیا اور کبھی ترک کیا ہو، اس کا کرنا ثواب ہے اورنہ کرنے والا گناہگار نہیں ہوگا۔
شوال کے چھ روزے،
شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہے، مختلف احادیثِ مبارکہ میں اس کی فضیلت وارد ہوئی ہے، جیسے کہ ایک حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے رمضان کے روزے رکھے اورپھر شوال کے چھ روزے رکھے تویہ ہمیشہ (یعنی پورے سال)کے روزے شمارہوں گے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآنِ کریم کے وعدہ کے مطابق ہر نیکی کا بدلہ کم از کم دس گنا ملتا ہے، گویا رمضان المبارک کے ایک ماہ کے روزے دس ماہ کے روزوں کے برابر ہوئے، اور شوال کےچھ روزے ساٹھ روزوں کے برابر ہوئے، جو دو ماہ کے مساوی ہیں، اس طرح رمضان کے ساتھ شوال کے روزے رکھنے والاگویا پورے سال روزہ رکھنے والا ہوجاتا ہے۔
شوال کے چھ روزے یکم شوال یعنی عید کے دن کو چھوڑ کر شوال کی دوسری تاریخ سے لے کر مہینہ کے آخر تک الگ الگ کرکے اور اکٹھے دونوں طرح رکھے جاسکتے ہیں؛ لہذا ان روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ البتہ اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو اسے طعن و تشنیع کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے؛ کیوں کہ یہ مستحب روزہ ہے، جسے رکھنے پر ثواب ہے اور نہ رکھنے پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔
ماہ شعبان کی پندرھویں تاریخ کا روزہ۔
پندرہ شعبان کے روزہ مستحب ہے، اس روزے کی فضیلت کے بارے میں صرف ایک روایت ہے کہ شب براءت کے بعد والے دن روزہ رکھو، اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے، لیکن چونکہ فضیلت ضعیف روایت سے بھی ثابت ہوجاتی ہے اور یہ دن ایام بیض میں سے بھی ہیں(ایام بیض سے مراد ہر ماہ کی ١٣ ،١۴، اور ١۵ تاریخ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ ان تین دنوں میں روزہ رکھنے کا اہتمام فرماتے تھے) اس لیے نفل روزے کی نیت سے پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا مستحب ہے،
( ۵ ) نفل: فرض ، واجب ، سنت ، مستحب ، اور ایام منہیات کے روزوں کے علاوہ سب روز نے نقل ہے ۔
( ٦ ) مکروہ : ۔صرف سنیچر کا روزہ رکھنا ، یا صرف دسویں محرم کا روزہ رکھنا ، اور عورت کو بغیر خاوند کی اجازت کے نفل روزہ رکھنا۔
( ۷ ) حرام : سال بھر میں پانچ روزے حرام ہیں عید الفطر عید الاضحی اور ایام تشریق کے تین روزے (یعنی ذی الحجہ کی گیارہویں ، بارھویں اور تیرہویں تاریخوں کا روزہ رکھنا ۔
صحیح البخاری میں ہے:
حدثنا عبد الله بن يوسف، أخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن أبي عبيد، مولى ابن أزهر، قال شهدت العيد مع عمر بن الخطاب رضي الله عنه، فقال هذان يومان نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صيامهما يوم فطركم من صيامكم، واليوم الآخر تأكلون فيه من نسككم۔ ( كتاب الصوم، باب صوم يوم الفطر، ٣/٤٢ ط: دار طوق النجاة)
صحيح مسلم میں ہے۔
"سمعت عبد الله بن عباس رضي الله عنهما يقول: حين صام رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عاشوراء وأمر بصيامه، قالوا: يا رسول الله إنه يوم تعظمه اليهود والنصارى، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «فإذا كان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع»، قال: فلم يأت العام المقبل، حتى توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم" . (صحيح مسلم، ٢/٧٩٧)
سنن الترمذي ت بشار میں ہے۔
عن موسى بن طلحة، قال: سمعت أبا ذر يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أبا ذر! إذا صمت من الشهر ثلاثة أيام فصم ثلاث عشرة، وأربع عشرة، وخمس عشرة. حديث أبي ذر حديث حسن۔ (سنن الترمذي ت بشار ٢/١٢٦)
سنن الترمذي ت بشار میں ہے۔
"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: تعرض الأعمال يوم الاثنين والخميس، فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم. حديث أبي هريرة في هذا الباب حديث حسن غريب۔ (سنن الترمذي ت بشار ٢/١١٤)
ترمذی شریف
عن أبي هريرة عن النبي صلی الله عليه وسلم قال: ما من أيام أحب إلی الله أن يتعبد له فيها من عشر ذي الحجة یعدل صيام کل يوم منها بصيام سنة وقيام کل ليلة منها بقيام ليلة القدر۔ (باب ما جاء في العمل في أيام العشر، ٣/١٣٠ ط: دار إحیاء التراث العربي، بیروت)
وفیه أیضاً:
عن أبي قتادة أن النبي صلی الله عليه وسلم قال صيام يوم عرفة إني أحتسب علی الله أن يکفر السنة التي قبله والسنة التي بعده۔ ( باب ما جاء في فضل صوم يوم عرفة، ٣/١٢٤ ط: دار إحیاء التراث العربي، بیروت)
سنن ابن ماجہ میں ہے۔
عن علي بن أبي طالب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” إذا كانت ليلة النصف من شعبان، فقوموا ليلها وصوموا نهارها، فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا، فيقول: ألا من مستغفر لي فأغفر له ألا مسترزق فأرزقه ألا مبتلى فأعافيه ألا كذا ألا كذا، حتى يطلع الفجر۔ (سنن ابن ماجه ١/٤٤٤)
اعلاء السنن میں ہے۔
عن أبي أیوب عن رسول اﷲ قال: من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال فذاك صیام الدهر۔ رواه الجماعة إلا البخاري والنسائي۔ ( اعلاء السنن کتاب الصوم ، باب استحباب صیام ستۃ من شوال وصوم عرفۃ ، رقم الحدیث ٢٥٤١ ط: ادارۃ القرآن کراچی )
البحر الرائق میں ہے۔
واقسـامـه فـرض وواجـب ومـسـنـون ومـنـدوب و نـفـل ومكروه تنزيهـاً وتحريماً، فالأول رمـضـان وقضاؤه والكفارات والواجب المنذور والمسنون عاشوراء مع التاسع والمندوب صوم ثلاثة من كل شهر ويندب فيها كونها لأيام البيـض وكل صوم ثبت بالسنة طلبه والوعدعليه كصوم داؤدعليه الصلاة والسلام وعـلـى سـائـر الأنبيـاء والـنـفـل ما سوى ذالك مما لم يثبت كراهته ـ والمكروه تـنـزيـهـاعـاشـوراء مـفـرداً عـن التاسع ونحو يوم المهرجان و تحريماً أيام التشريق والعيدين ـ ( البحر الرائق ٤٤٩/٢ )
شامی میں ہے۔
(اسی طرح شامی میں جلد نمبر ٣ صفحہ نمبر ٣٣٦ سے ٣٣٩ تک ملاحظہ فرمائیں)۔ واللہ اعلم بالصواب۔
العارض مفتی آصف گودھروی
خادم مدرسہ ابن عباس گودھرا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں